خشوع و خضوع
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - عاجزی، فروتنی، گِڑگڑانا۔ "اورادِ وظائف نہایت خشوع و خضوع سے جاری تھے۔" ( ١٩٨٠ء، ماہ روز، ٣٢٤ )
اشتقاق
عربی زبان سے مشتق اسم 'خشوع' کے ساتھ 'و' بطور حرف عطف لگانے کے بعد عربی ہی سے مشتق اسم 'خضوع' لگانے سے مرکب 'خشوع و خضوع' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٧٩٤ء کو "دیوان بیدار" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - عاجزی، فروتنی، گِڑگڑانا۔ "اورادِ وظائف نہایت خشوع و خضوع سے جاری تھے۔" ( ١٩٨٠ء، ماہ روز، ٣٢٤ )
جنس: مذکر